بنگلورو:6/مئی(ایس او نیوز) شدید اختلافات کے درمیان آج میسور میں بی جے پی کی مجلس عاملہ میٹنگ ریاست میں بی جے پی کو اقتدار پر لانے کے اعلان کے ساتھ شروع ہوگئی۔ میسور کے راجیندرا بھون میں شروع ہوئی دوروزہ میٹنگ میں دو کٹر سیاسی حریف یڈیورپا اور ایشورپا نے ایک دوسرے سے نظریں نہیں ملائیں، جبکہ مرکزی وزیر برائے کیمیا وکھاد اننت کمار نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں بی جے پی متحد ہوکر اقتدار پر آنے کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔ ہر ضلع اور تعلقہ میں پارٹی کو منظم کیا جارہاہے۔ پچھلی بی جے پی حکومت میں جو فلاحی منصوبے لاگو کئے گئے تھے ان کی بنیاد پر پارٹی عوام سے ووٹ مانگے گی۔ساتھ ہی مرکزکی مودی حکومت نے ملک میں جو فلاحی منصوبے عوام کیلئے لاگو کئے ہیں ان کی بنیاد پر ریاستی عوام کا اعتماد حاصل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کے کرپشن، خشک سالی سے نمٹنے میں ناکامی، ترقیاتی کاموں کی سست روی اور دیگر امور پر عوام میں بیداری لائی جائے گی۔ بی جے پی کی مجلس عاملہ میٹنگ میں مجبوراً شریک ایشورپا نے حالانکہ اجلاس کی شروعات میں یڈیورپا کی طرف رخ کرکے ہاتھ جوڑے، لیکن یڈیورپا نے ان کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایشورپا نے ایک بار پھر میسور میں بھی یہ واضح کردیا کہ کسی بھی حال میں سنگولی راینا برگیڈ کی سرگرمیاں رکنے والی نہیں ہیں۔ بی جے پی کے قومی صدر امیت شا کی اجازت سے ہی یہ سرگرمیاں چلائی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی کی مجلس عاملہ اور سنگولی راینا برگیڈ کی سرگرمیوں سے کچھ لینا دینانہیں ہے۔اس برگیڈ کے بارے میں مجلس عاملہ میں کوئی بحث نہیں ہوگی۔ رائچور میں کل منعقدہ سنگولی راینا برگیڈ کے جلسے کے التوا کے بارے میں ایشورپا نے کہا کہ بہت جلد اس جلسہ کی نئی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا۔اس دوران کرناٹک میں بی جے پی امور کے انچارج مرلی دھر راؤ نے آج ایشورپا اور یڈیورپا خیموں کو سخت تاکید کی کہ کسی بھی حال میں مجلس عاملہ میٹنگ کے دوران برگشتگی کا معاملہ اٹھایا نہ جائے۔ بی جے پی کے داخلی انتشار کو داخلی سطح پر ہی نمٹایا جائے۔